ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار: ضلع پنچایت میٹنگ میں چھایا نیشنل ہائی وے ٹول وصولی معاملہ۔ اراکین نے دی ٹول ناکہ منہدم کرنے کی دھمکی

کاروار: ضلع پنچایت میٹنگ میں چھایا نیشنل ہائی وے ٹول وصولی معاملہ۔ اراکین نے دی ٹول ناکہ منہدم کرنے کی دھمکی

Thu, 18 Mar 2021 13:31:00    S.O. News Service

کاروار،18؍ مارچ (ایس او نیوز) ضلع پنچایت کی عام میٹنگ میں نیشنل ہائی وے توسیعی کام مکمل نہ ہونے کے باوجود ٹھیکیدار کمپنی آئی آر بی کی طرف سے ٹّول وصول کرنے ، ضلع پنچایت اراکین کو ٹول سے چھوٹ نہ دینے اور غیر سائنٹفک انداز میں ہائی وے تعمیر کرنے کا مسئلہ چھایا رہا۔

    ایک رکن نے کہا کہ ضلع پنچایت اراکین بھی اراکین اسمبلی اور اراکین پارلیمان کی طرح ہوتے ہیں، اس لئے ضلع پنچایت رکن سے ٹول وصول نہیں کیا جانا چاہیے۔ لیکن ٹول ناکہ پر اس طرح کی رعایت دینے سے انکار کیا جاتا ہے۔ ایک خاتون رکن نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ابھی ہائی وے کا کام پورا نہیں ہوا تو ٹھیکیدار کمپنی کس بنیاد پر ٹول وصول کررہی ہے۔ غیر سائنٹفک اور نامکمل کام کی وجہ سے  اتنے سارے حادثات ہورہے ہیں ، لوگ زخمی ہورہے ہیں اور جانیں جا رہی ہیں۔ لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ افسران کو عوام کی تکلیف کا احساس شاید اسی وقت ہوگا جب حادثے میں کسی آفیسر کی جان چلی جائے گی۔

    رکن پردیپ نائک نے آئی آر بی کمپنی پر لوٹ مچانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہائی وے تعمیر غیر سائنٹفک انداز میں کی گئی ہے ۔ جگہ جگہ خطرناک موڑ رکھے گئے ہیں جو   جان لیوا حادثات کا سبب بن رہے ہیں۔ ٹول وصولی کے خلاف سوال کرو تو کیس درج کیے جاتے ہیں۔ احتجاج کرو تو پولیس رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔ انکولہ میں فلائی اوور کا مطالبہ کرتے ہوئے میمورنڈم دے کر تین سال ہوگئے، مگر مطالبہ پورا نہیں ہورہا ہے۔ ٹھیکیدار کمپنی ایسا برتاو کررہی ہے جسیے  نیشنل ہائی وے اس کے باپ کی جائداد ہے۔ اور سرکاری افسران ہاتھ باندھ کر بیٹھ گئے ہیں ۔ 

    پردیپ نے کہا کہ ظلم سہنے کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔اگر ٹھیکیدار کمپنی کا یہی رویہ رہا تو پھر آنے والے دنوں میں ایک انقلابی قدم اٹھانا پڑے گا۔ ہوسکتا ہے کہ ٹول گیٹ ہہی منہدم کرنے کی نوبت آجائے۔ اگر اس سے بچنا ہے تو پھر افسران کو آئی آر بی کی طرف سے مچائی گئی لوٹ کو روکنا ہوگا۔

    رکن شوانند ہیگڈے نے پنچایت اراکین کو ٹول سے رعایت دینے اور ہائی وے کا کام پورا ہونے تک عوام سے ٹول وصول نہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے  ضلع پنچایت کی طرف سے قرارداد منظور کی جائے۔ جبکہ رتناکر نائک نے کہا کہ موٹر گاڑیاں خریدتے وقت چونکہ روڈ ٹیکس ادا کیا جاتا ہے تو پھر دوبارہ ٹول وصولی کا مطلب کیا ہے۔ اس لئے ٹول وصولی ہی ختم کی جانی چاہیے۔    


Share: